موسمیاتی تبدیلی آج کی دنیا کا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی
سرگرمیاں ہیں جنہوں نے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ جنگالت کی کٹائی ،صنعتوں سے
نکلنے واال دھواں اور فضائی آلودگی اس تبدیلی کے بڑے اسباب ہیں۔ قرآن پاک میں ہللا
تعالی فرماتا ہے:
ٰ
"زمین میں فساد نہ پھیالؤ" (سورۃ االعراف)۔
انسانی اللچ اور ضرورتوں نے فطرت کے نظام کو بگاڑ دیا ہے۔ ایندھن کے زیادہ استعمال
اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والی گیسوں نے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار
علی نے فرمایا:
بڑھا دی ہے ،جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ حضرت ؓ
"دنیا تمہارا گھر نہیں بلکہ گزرگاہ ہے"۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دن بدن واضح ہو رہے ہیں۔ کبھی شدید گرمی ،کبھی سخت
سردی ،اور کبھی غیر متوقع بارشیں انسان کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔ پاکستان جیسے
زرعی ملک میں یہ تبدیلی فصلوں کی پیداوار کو کم کر رہی ہے۔ شاعر مشرق عالمہ اقبال
نے کہا تھا" :افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر"۔ اگر ہم صحیح اقدامات کریں تو
حاالت بہتر ہو سکتے ہیں۔
سیالب ،خشک سالی اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل موسمیاتی تبدیلی کے برا ِہ
راست نتائج ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی سطح کم یا زیادہ ہونا نہ صرف زراعت بلکہ انسانی
جناح نے فرمایا" :کام ،کام اور بس
ؒ جانوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ قائداعظم محمد علی
کام"۔ ہمیں محنت کے ساتھ ماحول کی حفاظت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
اس مسئلے کا حل ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ شجرکاری ،ایندھن کے متبادل ذرائع،
ث نبوی ﷺ اور توانائی کے درست استعمال سے ہم ماحول کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ حدی ِ
ہے" :اگر قیامت آجائے اور تمہارے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے لگا دو"۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے
کہ آخری لمحے تک بھی ماحول کی بہتری کی کوشش ترک نہیں کرنی چاہیے۔
)Powered by TCPDF (www.tcpdf.org