قدرتی آفات اور ہماری ذمہ داریاں ان آفات سے بچاؤ کے لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مضبوط ڈیم اور حفاظتی
-قدرتی آفات انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ زلزلے ،سیالب ،طوفان اور پشتے تعمیر کرے اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو
وبائیں انسان کی محنت سے بسائی گئی بستیوں کو لمحوں میں تباہ کر دیتی ہیں۔ یہ آفات بھی آگاہی دینا ضروری ہے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
ہمیں یاد دالتی ہیں کہ ہم کائنات کے مالک نہیں بلکہ ہللا کے بندے ہیں۔ "احتیاط عالج سے بہتر ہے۔"
"اور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے ،اور مال و جان اور پھلوں کی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ متاثرہ افراد کو
کمی سے۔" (القرآن) کھانے ،پانی اور رہائش فراہم کریں۔ رضاکارانہ تنظیموں کے ساتھ مل کر ریلیف کے
پاکستان میں اکثر سیالب ،زلزلے اور قحط جیسی آفات آتی رہتی ہیں۔ ان آفات کی وجہ کاموں میں حصہ لینا بھی ایک بڑی نیکی ہے۔
سے ہزاروں لوگ بے گھر اور بے سہارا ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ان کے اسباب پر غور "انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔"
کرنا اور ان سے بچاؤ کی تدابیر اپنانا چاہیے تاکہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔ آخر میں ،ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیالب جیسے حاالت میں صبر ،اتحاد اور قربانی
"ہللا کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔" ہی ہمیں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم سب اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں
قدرتی آفات کے وقت سب سے زیادہ ضرورت اتحاد اور ہمدردی کی ہوتی ہے۔ متاثرہ تو ہم ان آفات پر قابو پا سکتے ہیں۔
افراد کی مدد کرنا ،ان کے لیے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کرنا ہر شہری کا "ہللا ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔" (القرآن)
فرض ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی رضاکارانہ طور پر خدمت کرنی
چاہیے۔"جو شخص کسی ایک جان کو بچاتا ہے گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا موسمیاتی تبدیلی کے عوامل اور اثرات
لیا۔" (القرآن) موسمیاتی تبدیلی آج کی دنیا کا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی
ہمیں چاہیے کہ قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے سائنسی طریقے اپنائیں۔ درخت لگائیں سرگرمیاں ہیں جنہوں نے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ جنگالت کی کٹائی ،صنعتوں
تاکہ زمین مضبوط رہے ،نالوں اور دریاؤں کی صفائی کریں تاکہ سیالب کا خطرہ کم سے نکلنے واال دھواں اور فضائی آلودگی اس تبدیلی کے بڑے اسباب ہیں۔ قرآن پاک
ہو ،اور غیر محفوظ عمارتوں سے پرہیز کریں تاکہ زلزلے کے وقت نقصان کم ہو۔ تعالی فرماتا ہے" :زمین میں فساد نہ پھیالؤ" (سورۃ االعراف)۔ٰ میں ہللا
"احتیاط عالج سے بہتر ہے۔" (مقولہ) انسانی اللچ اور ضرورتوں نے فطرت کے نظام کو بگاڑ دیا ہے۔ ایندھن کے زیادہ
قدرتی آفات ہللا کی آزمائش ہوتی ہیں لیکن ان کے سامنے ہمت ہارنا درست نہیں۔ ہمیں استعمال اور فیکٹریوں سے خارج ہونے والی گیسوں نے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ
اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا علی نے کی مقدار بڑھا دی ہے ،جس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ حضرت ؓ
چاہیے۔ یہی ہماری دینی اور قومی ذمہ داری ہے۔ فرمایا" :دنیا تمہارا گھر نہیں بلکہ گزرگاہ ہے"۔ اس قول میں انسان کو سمجھایا گیا ہے
"اتحاد میں برکت ہے۔" (حدیث مبارکہ) کہ زمین کو نقصان نہ پہنچاؤ۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دن بدن واضح ہو رہے ہیں۔ کبھی شدید گرمی ،کبھی سخت
سیالب کی تباہ کاریاں اور ہماری ذمہ داریاں سردی ،اور کبھی غیر متوقع بارشیں انسان کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہیں۔ پاکستان
سیالب ایک قدرتی آفت ہے جو انسانی زندگی ،معیشت اور ماحول پر گہرے اثرات جیسے زرعی ملک میں یہ تبدیلی فصلوں کی پیداوار کو کم کر رہی ہے۔ شاعر مشرق
ڈالتی ہے۔ بارشوں اور دریاؤں کے اُبلنے سے جب پانی بے قابو ہو جاتا ہے تو بستیاں عالمہ اقبال نے کہا تھا" :افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر"۔ اگر ہم صحیح
ڈوب جاتی ہیں ،فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں اقدامات کریں تو حاالت بہتر ہو سکتے ہیں۔
سیالب ایک سنگین مسئلہ ہے جو ہر سال ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے۔ سیالب ،خشک سالی اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل موسمیاتی تبدیلی کے برا ِہ
"قدرتی آفات انسان کو اس کی کمزوری یاد دالتی ہیں۔" راست نتائج ہیں۔ دریاؤں میں پانی کی سطح کم یا زیادہ ہونا نہ صرف زراعت بلکہ
سیالب کی تباہ کاریاں نہ صرف جانی نقصان کا سبب بنتی ہیں بلکہ امالک ،فصلوں اور جناح نے فرمایا" :کام ،کام
ؒ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ قائداعظم محمد علی
جانوروں کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اسکول ،اسپتال اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا اور بس کام"۔ ہمیں محنت کے ساتھ ماحول کی حفاظت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
شکار ہو جاتی ہیں۔ دیہاتوں میں کھڑی فصلیں پانی میں بہہ جاتی ہیں جس سے کسان اس مسئلے کا حل ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ شجرکاری ،ایندھن کے متبادل
کاشتکاری سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ثذرائع ،اور توانائی کے درست استعمال سے ہم ماحول کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ حدی ِ
"زمین ماں کی طرح ہے ،اس کی بربادی ہماری بربادی ہے۔" نبوی ﷺ ہے" :اگر قیامت آجائے اور تمہارے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے لگا دو"۔ یہ
ہمیں سکھاتی ہے کہ آخری لمحے تک بھی ماحول کی بہتری کی کوشش ترک نہیں
کرنی چاہیے۔
)Powered by TCPDF (www.tcpdf.org