دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کا اثر ہمارے ماحول پر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ جب لوگ زیادہ ہوں
گے تو رہائش ،خوراک ،پانی اور دیگر وسائل کی ضرورت بھی بڑھ جائے گی۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے
جنگالت کاٹ دیے جاتے ہیں ،فیکٹریاں بڑھتی ہیں اور گاڑیوں کا استعمال زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ سب عوامل ماحولیاتی
آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ شاعر نے سچ کہا ہے:
زمین سب کی ماں ہے ،سنبھال اس کو اے انسان
اگر ماں کو تو مارے گا ،تو زندہ کیسے رہ پائے گا؟
آبادی کے دباؤ کی وجہ سے شہروں میں صفائی کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ کچرا ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام نہ ہونے
سے بدبو ،جراثیم اور بیماریاں پھیلتی ہیں۔ سیوریج کا پانی ندیوں اور دریاؤں میں بہا دیا جاتا ہے جس سے پانی آلودہ ہو
جاتا ہے۔ آلودہ پانی پینے سے ہیضہ ،ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ اس لیے صفائی اور ماحول کی حفاظت
ہر شہری کا فرض ہے۔
ہمیں اس خاک داں کو صاف رکھنا ہے ہر لمحہ
یہی ہے زندگی کا اصل پیغا ِم وفا
صنعتی ترقی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ہوا کی آلودگی بھی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے
واال دھواں ،گاڑیوں کے انجن کا دھواں ،اور کوڑا جالنے سے پیدا ہونے واال دھواں ہوا کو زہریال بنا دیتا ہے۔ اس آلودگی
سے دمہ ،کھانسی ،اور دل کے امراض بڑھ رہے ہیں۔ تازہ اور صاف ہوا ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے ،اور ہمیں یہ
ضرورت اپنے عمل سے پوری کرنی چاہیے۔
ہوا کا ہر جھونکا ہے قدرت کا تحفہ
اسے زہر نہ کر ،یہ تیری سانسوں کا سہارا ہے
آبادی میں اضافہ نہ صرف ہوا اور پانی کو آلودہ کرتا ہے بلکہ شور کی آلودگی بھی بڑھاتا ہے۔ شہروں میں ٹریفک کا
شور ،ہارن ،مشینوں کی آوازیں اور تعمیرات کا شور انسانی دماغ اور اعصاب پر برا اثر ڈالتا ہے۔ بچے ،بزرگ اور
بیمار افراد شور سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پرسکون ماحول ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے۔
سکون کی تالش میں ہم شور میں گھومتے ہیں
کبھی دل کو بھی تھوڑا سا سکون دینا سیکھو
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی صحت مند اور خوشحال زندگی گزاریں ،تو ہمیں آبادی پر قابو پانے اور ماحول
کو صاف رکھنے کے ا قدامات کرنے ہوں گے۔ درخت لگانا ،صفائی کا خیال رکھنا ،فیکٹریوں میں فلٹر کا استعمال اور
غیر ضروری شور و دھویں سے بچنا ضروری ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے ماحول کو محفوظ
بنائیں گے۔
اگر ہم سنبھل جائیں تو دنیا سنور جائے
یہ خاک ،یہ فضا ،یہ پانی نکھر جائے
)Powered by TCPDF (www.tcpdf.org