استاد معاشرے کی وہ عظیم ہستی ہے جو ایک فرد کو صرف تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ اُسے زندگی گزارنے کا سلیقہ،
اخالقیات ،اور انسانیت کا درس بھی دیتا ہے۔ استاد کا کردار ایک معمار کی طرح ہوتا ہے جو بچوں کے ذہنوں کو
تراش کر ایک بہتر انسان اور شہری بناتا ہے۔ قوموں کی ترقی و کامیابی میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے،
کیونکہ وہی نوجوان نسل کی رہنمائی کرتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اساتذہ کی قدر کی ،وہ دنیا میں علم ،تہذیب ،سائنس اور ترقی میں نمایاں رہیں۔ نبی
کریم ﷺ نے خود کو "معلم" کہا ،جس سے استاد کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ دنیا کے عظیم رہنماؤں جیسے اقبال،
قائداعظم ،نیلسن منڈیال اور دیگر نے ہمیشہ اساتذہ کے احترام کو اپنا فرض سمجھا اور ان کی رہنمائی میں ہی ترقی کی
راہ اختیار کی۔
استاد نہ صرف کتابی علم سکھاتا ہے بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی ،کردار سازی ،اور ان کے اندر سوچنے سمجھنے
کی صالحیت پیدا کرتا ہے۔ وہ طلبہ کو اچھا شہری ،بااخالق انسان ،اور اپنے وطن سے محبت کرنے واال فرد بناتا ہے۔
ایک استاد کی ایک بات ،ایک رہنمائی ،ایک نصیحت کئی زندگیاں بدل سکتی ہے۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں استاد کی وہ عزت اور مقام نہیں رہا جو اُسے ملنا چاہیے۔ مادی معاشرے میں اساتذہ کی
تنخواہیں کم اور توقعات زیادہ ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود بیشتر اساتذہ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں
اور معاشرے کو سنوار رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم استاد کی قدر کریں اور ا ُسے وہ مقام دیں جو حقیقت میں اُس کا حق
ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ استاد قوم کی بنیادیں رکھتا ہے۔ ایک اچھا استاد ہی ایک بہتر قوم کی ضمانت ہے۔ اگر ہم
چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے ،تو ہمیں اپنے اساتذہ کی عزت کرنی ہوگی ،اُنہیں وسائل دینے ہوں گے ،اور اُن
کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
)Powered by TCPDF (www.tcpdf.org